Qabar meguzari gyi wo Raat kaisi sabit hui os Keliye
قبر میں گزاری رات – مکمل داستان
باب 1: خطرے کی تلاش
احمد ہمیشہ خطرناک جگہوں اور عجیب و غریب تجربات میں دلچسپی لیتا تھا۔
دوست اکثر اسے کہتے: “احمد، تمہیں عقل نہیں؟ رات کو قبرستان میں جانا خطرناک ہے!”
لیکن احمد کو یہ سب سننا مذاق لگتا تھا۔
اس کے لیے خطرہ اور خوف ہی سب سے بڑا جذبہ تھا۔
ایک دن احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ پرانی، سنسان قبرستان میں اکیلا جائے گا۔
یہ قبرستان شہر کے کنارے واقع تھا، اور لوگ کہتے تھے کہ وہاں رات کے وقت عجیب آوازیں اور سایے دکھائی دیتے ہیں۔
—
باب 2: قبرستان کا اندھیرا
رات کے 12 بجے احمد چراغ لے کر قبرستان میں داخل ہوا۔
چاندنی کمزور تھی، اور ہر طرف دھندلی روشنی چھائی ہوئی تھی۔
ہر قدم پر خشک پتے کچکچاتے، جیسے زمین خود چیختی ہو۔
احمد نے خود سے کہا:
“صرف ایک رات گزارنی ہے، دیکھنا ہے کہ لوگ کیا ڈرتے ہیں۔”
گھڑی میں رات کے 12 بج چکے تھے، اور ہوا میں سردی کا احساس بڑھ گیا۔
احمد نے سب سے پرانی قبر کے قریب بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
اس قبر کی چھت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، اور قبر کے کنارے پر دھول جمی ہوئی تھی۔
—
باب 3: پہلی سرسراہٹ
احمد نے زمین پر بیٹھ کر اپنے موبائل کی لائٹ آن کی۔
اتنے میں ایک سایہ اس کے کنارے سے گزرا، لیکن جب اس نے دیکھا، تو قبر خالی تھی۔
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، لیکن احمد نے خود کو بہادری دکھانے کی کوشش کی۔
اس نے قبر کے اوپر ہاتھ رکھ کر کہا:
“میں یہاں صرف ایک رات گزار رہا ہوں، کچھ نہیں ہوگا۔”
رات کے 2 بجنے کو تھے، اور اچانک زمین کے نیچے سے سرد ہوا نکلی۔
مٹی ہلنے لگی، اور احمد نے محسوس کیا کہ کوئی اسے نیچے کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس نے پیچھے دیکھا، اور ایک ہاتھ قبر سے باہر نکل رہا تھا…

یہ ہاتھ سفید، سرد اور مردہ لگ رہا تھا۔
—
باب 4: اندھیرے میں چیخیں
احمد نے چیخنے کی کوشش کی، مگر آواز اس کے منہ میں گھس گئی۔
زمین کے اندر سے کچھ سرسراہٹیں آئیں، اور احمد کے کانوں میں مردہ ہنسی گونجنے لگی۔
ہوا میں ایک عجیب خوشبو تھی، جیسے سڑتی ہوئی مٹی اور پرانی روحوں کی خوشبو۔
احمد کے پیر کانپنے لگے، اور اس نے دوڑنے کی کوشش کی، مگر ہر طرف سایے اس کا پیچھا کر رہے تھے۔
احمد نے موبائل نکالا، لیکن بیٹری ختم ہو چکی تھی۔
چراغ بجھ گیا، اور وہ اندھیرے میں صرف اپنی دھڑکن اور سانس کی آواز سن سکتا تھا۔
—
باب 5: قبر کی گہری خاموشی
رات گہری ہوتی گئی، اور احمد نے محسوس کیا کہ وہ زندہ نہیں رہا، بلکہ قبر کا حصہ بن گیا ہے۔
زمین کے نیچے کچھ حرکتیں تھیں، اور احمد کے ہاتھ اپنے آپ حرکت کرنے لگے۔
اس نے دیکھا کہ مٹی سے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اس کے جسم پر رینگ رہے ہیں۔
ان ہاتھوں نے اسے آرام سے قبر کے اندر دھکیل دیا، جیسے وہ کسی اور دنیا میں داخل ہو رہا ہو۔
احمد نے آنکھیں بند کیں، اور خوف کی شدت نے اسے بے ہوش کر دیا۔
جب وہ ہوش میں آیا، تو قبر خالی تھی، لیکن ایک نئی تحریر قبر کے کنارے لکھی ہوئی تھی:
“اب تم بھی ہمارے ساتھ ہو… رات کی طرح خاموش اور ہمیشہ کے لیے۔”
—
باب 6: صبح کا راز
صبح کے وقت لوگ قبرستان آئے، لیکن احمد کا کوئی نشان نہ ملا۔
صرف ایک قبر تھی، جس کے کنارے پر ایک نئی تختی کھڑی تھی:
اس تختی پر احمد کا نام لکھا ہوا تھا،
اور قبر میں صرف ایک کھوکھلی جگہ باقی تھی، جہاں احمد کبھی موجود تھا، مگر اب وہ اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا۔
ہر جو قبر کے قریب گیا، وہ خاموشی اور سرد ہوا محسوس کرتا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت احمد کی آواز قبر کے اندر سے آتی ہے…
لیکن کوئی بھی اسے دیکھ نہیں سکتا، اور جو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے… وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
اختتام
احمد کی داستان آج بھی قبرستان میں سنائی جاتی ہے۔
جو شخص بھی وہاں رات گزارنے کی ہمت کرتا ہے،
وہ احمد کی قبر کے پاس بیٹھ کر خاموشی، سرسراہٹ اور سرد ہوا محسوس کرتا ہے…
اور تبھی اسے احساس ہوتا ہے کہ
کچھ راز صرف قبر کے اندر ہی محفوظ رہتے ہیں۔
