|

Mohabt ki itni bari saza Sacha waqya Pakistan me

پاکستان کے ایک مشہور مگر نام پوشیدہ شہر کے قریب واقع گاؤں شیخانوالی میں ایک ایسی محبت نے جنم لیا تھی جس کا انجام اتنا دردناک ہوگا… کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔

اقرا ایک نرم مزاج، شرمیلی اور ہمیشہ ہلکی سی مسکراہٹ رکھنے والی لڑکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ معصوم چمک تھی جو دیکھنے والے کو پل بھر میں اپنی طرف کھینچ لیتی۔ حمزہ اسے بچپن سے جانتا تھا—محنتی، باوقار اور دل کا سچا۔ اسکول کے راستے، کھیتوں کے کنارے، اور گاؤں کی تنگ گلیوں میں گزرا ہوا بچپن ان کے دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے جوڑ رہا تھا۔

یہ محبت اچانک نہیں ہوئی… یہ سالوں کی خاموشی، بھروسے اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے پروان چڑھی تھی۔ جب اقرا کسی بات پر مسکراتی، حمزہ کی آنکھوں میں سکون اتر آتا۔ اور جب حمزہ اسے دیکھتا، اقرا کے چہرے پر وہ ہلکی سی شرمندگی اُبھر آتی تھی جو دل کا حال خود ہی بیان کر دیتی۔

وقت گزرتا گیا اور ایک دن دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شادی کریں گے، ایک دوسرے کا بن کر زندگی گزاریں گے۔ اقرا نے سوچا تھا کہ اس کے گھر والے سمجھ جائیں گے… مگر گاؤں کی روایات اور “عزت” کا بوجھ اکثر سچائی سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔

جس دن اس نے ہمت کر کے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ حمزہ سے نکاح کرنا چاہتی ہے، گھر کا ماحول پل بھر میں بدل گیا۔ ماں کی آنکھوں میں پہلے حیرانی آئی… پھر غصہ بھڑک اٹھا۔ بات چند گھنٹوں میں پورے خاندان تک پھیل گئی۔ شام ہوتے ہوتے گھر والوں کی آنکھوں میں صرف ایک ہی چیز تھی—غصہ، انا اور معاشرے کا خوف۔

رات کو گھر والوں نے اقرا کو کہا:

“چلو، تمہیں لے کر جانا ہے۔”

اقرا کے دل میں عجیب سا ڈر بیٹھ گیا، مگر وہ بے بس تھی۔ دوسری طرف حمزہ کو بھی ایک بہانے سے دریا کے کنارے بلایا گیا۔ دونوں کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کا فیصلہ انہیں کہاں لے آیا ہے۔

رات سیاہ تھی، ہوا میں سردی اور خاموشی غیر معمولی حد تک بھاری تھی۔ دریا کا پانی اندھیرے میں ایک خوفناک سرگوشی کی طرح گونج رہا تھا۔ جب اقرا وہاں پہنچی اور اس نے حمزہ کو دیکھا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ حمزہ آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا—وہی ہاتھ جسے پکڑ کر وہ زندگی گزارنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔

مگر اس رات قسمت نے دونوں پر رحم نہ کیا۔

اقرا کے گھر والوں کی آنکھوں میں خون اُترا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے گرج کر کہا:

“ہم اپنی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے! تم دونوں نے ہمیں سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا!”

پھر… اک لمحہ۔
صرف ایک لمحہ۔

اندھیرے میں گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔
پہلی گولی نے اقرا کی سانسوں کو تھام لیا…
دوسری گولی نے حمزہ کے وجود میں خاموشی بھر دی۔

دونوں زمین پر گرے پڑے تھے… مگر ان کے ہاتھ اب بھی ایک دوسرے میں جڑے ہوئے تھے۔
جیسے ان کی روحیں بھی کہہ رہی ہوں:

“ہم ساتھ آئے تھے… ساتھ ہی جائیں گے۔”

گھر والوں نے جلدی جلدی دونوں کی لاشیں اٹھائیں… اور انہیں بہتے ہوئے دریا میں پھینک دیا۔ پانی نے ان دونوں کو ساتھ ساتھ بہا لیا—جیسے قدرت نے بھی ان کی محبت کو جدا ہونے سے انکار کر دیا ہو۔

اگلی صبح گاؤں میں سرگوشیاں چل رہی تھیں۔ لوگ افسوس بھی کر رہے تھے، حیران بھی تھے… مگر کسی میں بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ گاؤں کی روایات ایک بار پھر سچی محبت پر بھاری پڑ گئی تھیں۔

آج بھی شیخانوالی میں جب شام گہری ہوتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ دریا کے کنارے کبھی کبھی ایک لڑکی کی سسکیوں جیسی آواز سنائی دیتی ہے…
جسے لوگ اقرا کی ادھوری محبت کی صدا کہتے ہیں۔

Watching this story click here.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *