Mir Hamza Gumnaaz case of District Khuzdar Balochistan.Unsolved Mystery
بلوچستان کے ضلع خضدار کے ایک خاموش سے محلے میں ایک عام سا آدمی رہتا تھا،
جس کا نام میر حمزہ تھا۔ نہ وہ کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھتا تھا، نہ اس کا کوئی سیاسی یا قبائلی پس منظر تھا۔
وہ ایک نجی دفتر میں معمولی سی نوکری کرتا تھا، جہاں اس کی شناخت صرف ایک خاموش، وقت کا پابند ملازم کی تھی۔
اس کی زندگی ایک ہی دائرے میں گھومتی تھی—گھر، دفتر، اور پھر گھر۔ نہ دوستوں کی محفلیں، نہ دیر رات تک باہر رہنے کی عادت۔ مگر بعض اوقات، سب سے سادہ زندگیاں ہی سب سے خوفناک انجام کی طرف جاتی ہیں… اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ اصل کہانی ابھی شروع ہونے والی ہے۔
2021 کی وہ سرد رات بھی بالکل عام دنوں جیسی لگ رہی تھی۔ حمزہ نے دفتر سے نکلتے وقت اپنے ساتھی کو بتایا کہ وہ سیدھا گھر جا رہا ہے،
کیونکہ اگلے دن اسے جلدی اٹھنا تھا۔ اس نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی، ہیلمٹ پہنا، اور اُس سڑک کی طرف چل پڑا جو خضدار کے مضافات سے گزرتی تھی—
وہی سڑک جسے مقامی لوگ رات کے وقت استعمال کرنے سے کتراتے تھے۔ گھڑی میں وقت تھا 10:47 PM، اور اس لمحے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی وقت حمزہ کی زندگی کا آخری معلوم لمحہ بننے والا ہے… اور اس کے بعد جو ہوا، وہ آج تک کسی کے لیے قابلِ فہم نہیں بن سکا۔
وہ سڑک غیر معمولی حد تک سنسان تھی۔ نہ اسٹریٹ لائٹس پوری طرح جل رہی تھیں، نہ کسی دکان کی روشنی، نہ کسی گاڑی کی آواز۔ صرف موٹر سائیکل کے انجن کی ہلکی سی گونج، اور چاروں طرف پھیلی ہوئی خاموشی—
ایسی خاموشی جو انسان کے کانوں میں شور بن کر گونجنے لگتی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حمزہ کے موبائل فون کی آخری لوکیشن بھی اسی سڑک کے عین درمیان کی تھی،
جیسے وہیں وقت نے اچانک رکنے کا فیصلہ کر لیا ہو… مگر سوال یہ تھا کہ آخر وہاں ایسا کیا ہوا جو وقت کو بھی آگے بڑھنے نہ دیا؟

اگلی صبح جب سورج نکلا تو ایک چرواہے کی نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک موٹر سائیکل پر پڑی۔ وہی موٹر سائیکل جو حمزہ روزانہ چلاتا تھا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ موٹر سائیکل بالکل صحیح حالت میں تھی—اسٹینڈ پر لگی ہوئی، چابی لگی ہوئی، اور ہینڈل سیدھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی شخص آرام سے اترا ہو اور بس چل دیا ہو۔
لیکن جب لوگ اِدھر اُدھر دیکھنے لگے تو حمزہ کہیں نظر نہیں آیا… اور یہی وہ لمحہ تھا جب ایک عام گمشدگی، ایک خوفناک معمہ بننے لگی۔
.
.
.
پولیس کو اطلاع دی گئی۔ علاقے کو گھیرے میں لیا گیا۔ سرچ ٹیمیں آئیں، کتے لائے گئے، ریت کو چھانا گیا۔ مگر جو چیز سب سے زیادہ پریشان کن تھی،
وہ یہ کہ ریت میں حمزہ کے قدموں کے نشان موٹر سائیکل تک تو واضح تھے… مگر اس کے بعد، جیسے وہ زمین سے غائب ہو گیا ہو۔ نہ آگے، نہ پیچھے، نہ دائیں، نہ بائیں—ایک بھی قدم کا نشان نہیں۔
یہ ایسا تھا جیسے کسی نے حقیقت کو قینچی سے کاٹ کر ختم کر دیا ہو… اور اسی خلا نے سب سے بڑا سوال چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو حمزہ کا موبائل فون ملا، جو موٹر سائیکل کے قریب ہی پڑا تھا۔
بیٹری تقریباً ختم ہو چکی تھی، مگر فون آن تھا۔ جب فون چیک کیا گیا تو ایک چیز نے سب کو ساکت کر دیا—ایک 9 سیکنڈ کی ویڈیو، جو خودکار طور پر ریکارڈ ہوئی تھی۔ ویڈیو میں مکمل اندھیرا تھا، جیسے کیمرا کسی جیب یا بند جگہ میں ہو۔ لیکن چھٹے سیکنڈ پر، ایک آواز سنائی دی… ایک بھاری، مانوس مگر غیر انسانی سی آواز، جو صاف الفاظ میں کہہ رہی تھی:
“Tum yahan akelay kyun ho…?”
اور یہی وہ لمحہ تھا جب تفتیش نے ایک نیا، خوفناک رخ اختیار کیا۔
اُس آواز کے فوراً بعد ویڈیو میں ایک عجیب سی تیز ہوا کی آواز آئی، جیسے کسی بہت بڑی چیز نے اچانک حرکت کی ہو۔ کچھ پولیس افسران نے کہا کہ یہ پروں کی آواز لگتی ہے، کچھ نے اسے تیز ہوا قرار دیا، مگر سب اس بات پر متفق تھے کہ یہ کسی عام انسان کی حرکت نہیں لگتی۔
اگلے ہی لمحے ویڈیو اچانک بند ہو جاتی ہے، جیسے کسی نے زبردستی ریکارڈنگ ختم کر دی ہو۔ سوال یہ تھا کہ اگر حمزہ اکیلا تھا، تو یہ آواز کس کی تھی… اور وہ چیز کیا تھی جو کیمرے میں نظر آئے بغیر موجود تھی؟
جب یہ خبر علاقے میں پھیلی تو مقامی لوگوں نے پرانی باتیں یاد کرنا شروع کر دیں۔
کچھ نے بتایا کہ اسی سڑک پر رات کے وقت ایک سیاہ سایہ چلتا ہوا دیکھا گیا ہے—ایسا سایہ جو انسان کی شکل کا ہوتا ہے، مگر زمین پر اس کے قدموں کے نشان نہیں بنتے۔ کچھ بزرگوں کا کہنا تھا کہ یہ راستہ “حد” کے قریب ہے، جہاں بعض اوقات وہ چیزیں نظر آ جاتی ہیں جو انسانوں کے لیے نہیں ہوتیں۔ اور کچھ لوگوں نے اس رات آسمان میں ایک چمکتی ہوئی روشنی دیکھنے کا دعویٰ کیا، جو چند لمحے معلق رہی… اور پھر اچانک غائب ہو گئی، جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
آٹھ ماہ تک پولیس نے ہر ممکن زاویے سے کیس کو کھنگالا۔ دشمنی، اغوا، قتل، حادثہ—ہر تھیوری سامنے آئی، مگر کوئی بھی ثبوت پر پوری نہ اتر سکی۔ نہ کوئی لاش ملی، نہ خون کا ایک قطرہ، نہ کوئی عینی شاہد، نہ کوئی واضح وجہ۔
آخرکار فائلوں میں صرف سوالات رہ گئے… اور جوابات کہیں اور دفن ہو گئے۔
2022 میں، خاموشی سے یہ کیس بند کر دیا گیا۔ فائل پر لکھا گیا: “Unsolved.”
مگر اصل سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے—
اگر حمزہ کو کسی انسان نے نہیں لیا، تو اُس رات اس سنسان سڑک پر
آخر کون تھا…؟
اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ
وہ سڑک آج بھی موجود ہے…
اور لوگ کہتے ہیں کہ کچھ راتوں میں
اب بھی وہاں
کوئی اکیلا نہیں ہوتا…
