Masood Ahmad Janjua Pending case Mystery
مسعود احمد جنجوعہ ایک عام پاکستانی بزنس مین تھے۔ ان کا تعلق راولپنڈی سے تھا اور وہ کمپیوٹر اور ٹریڈ کے کام سے وابستہ تھے۔ 30 جولائی 2005 کو وہ اپنے دوست فیصل فراز کے ساتھ راولپنڈی سے پشاور کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ ایک عام سا سفر تھا، نہ کوئی خطرہ، نہ کوئی خاص بات۔ دونوں نے گھر والوں کو بتایا کہ چند دن میں واپس آ جائیں گے۔ یہی وہ آخری بات تھی جو ان کی اپنے اہلِ خانہ سے ہوئی۔
بس راولپنڈی سے روانہ ہوئی۔ راستے میں کسی جھگڑے، حادثے یا غیر معمولی واقعے کی کوئی رپورٹ نہیں ملی۔ جب بس پشاور پہنچی تو مسعود احمد جنجوعہ اور فیصل فراز بس سے اترنے والوں میں شامل نہیں تھے۔ اس دن کے بعد دونوں کو کسی نے زندہ یا مردہ نہیں دیکھا۔ موبائل فون بند تھے، کوئی رابطہ ممکن نہ رہا۔
گھر والوں نے پہلے یہ سمجھا کہ شاید سفر میں تاخیر ہو گئی ہو، لیکن جب کئی گھنٹے اور پھر دن گزر گئے تو تشویش بڑھ گئی۔ پولیس میں رپورٹ درج کروائی گئی۔ شروع میں یہ ایک عام گمشدگی کا کیس سمجھا گیا، مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، معاملہ سنگین ہوتا چلا گیا۔ نہ کوئی تاوان کا مطالبہ آیا، نہ کوئی سراغ ملا۔
کچھ عرصے بعد ایک نیا رخ سامنے آیا۔ چند ایسے افراد جو خود بعد میں لاپتہ ہو کر رہا ہوئے تھے، انہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے مسعود احمد جنجوعہ اور فیصل فراز کو خفیہ حراستی مراکز میں دیکھا تھا۔ ان بیانات نے کیس کو مکمل طور پر بدل دیا۔ اب یہ محض گمشدگی نہیں رہی بلکہ جبری گمشدگی کا الزام سامنے آ گیا۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچا۔ عدالت نے ازخود نوٹس لیا اور مختلف سرکاری اداروں سے رپورٹس طلب کیں۔ حکومتِ وقت نے ایک موقع پر عدالت کو بتایا کہ مسعود احمد جنجوعہ اور فیصل فراز کو القاعدہ نے افغانستان میں قتل کر دیا تھا۔ دلیل یہ دی گئی کہ ان کے لیپ ٹاپ اور ڈیٹا سے شدت پسندوں سے روابط کے شواہد ملے ہیں۔

یہ دعویٰ سامنے آتے ہی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر وہ واقعی القاعدہ کے ہاتھوں مارے گئے تھے تو لاشیں کہاں ہیں؟ قبریں کہاں ہیں؟ ڈی این اے یا کوئی ٹھوس ثبوت کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ اہلِ خانہ نے اس موقف کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ عدالت بھی اس دعوے سے مطمئن نہ ہو سکی کیونکہ کوئی ٹھوس شہادت پیش نہیں کی گئی تھی۔
سال گزرتے گئے۔ مختلف حکومتیں آئیں اور گئیں۔ کیس کبھی سپریم کورٹ میں سنا جاتا، کبھی لاپتہ افراد کے کمیشن کو بھیج دیا جاتا۔ کمیشن نے بھی یہی کہا کہ کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں، اس لیے فیصلہ ممکن نہیں۔ یوں فائل ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک فورم سے دوسرے فورم تک گھومتی رہی۔
مسعود احمد جنجوعہ کی اہلیہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے ملک بھر کے لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اکٹھا کیا اور ایک تحریک شروع کی۔ سڑکوں پر احتجاج، عدالتوں میں درخواستیں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں تک آواز پہنچائی گئی۔ یہ کیس پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی علامت بن گیا۔
آج اتنے سال گزرنے کے باوجود نہ یہ ثابت ہو سکا کہ مسعود احمد جنجوعہ زندہ ہیں، نہ یہ ثابت ہو سکا کہ وہ مر چکے ہیں۔ نہ کوئی قاتل سامنے آیا، نہ کوئی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ سرکاری مؤقف اور گواہوں کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ یہی تضاد اس کیس کو الجھائے ہوئے ہے۔
یہ کیس اس لیے unsolved بھی ہے اور pending بھی۔ unsolved اس لیے کہ حقیقت آج تک سامنے نہیں آ سکی، اور pending اس لیے کہ قانونی طور پر یہ فائل بند نہیں ہوئی۔ عدالتوں اور کمیشنوں میں اس کا ذکر آج بھی موجود ہے، مگر انجام صفر ہے۔
مسعود احمد جنجوعہ کا نام اب صرف ایک شخص کا نام نہیں رہا بلکہ پاکستان کی عدالتی اور تحقیقی ناکامی کی ایک مثال بن چکا ہے۔ ایک ایسا سوال جو دو دہائیوں سے لٹکا ہوا ہے: وہ زندہ ہیں یا مار دیے گئے؟ اور اگر مار دیے گئے تو کس نے، کب اور کیوں؟
اس سوال کا جواب آج تک کسی کے پاس نہیں۔
