Balochistan k District Khuzdar me Anokha Waqya
بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام میر حمزہ تھا۔ وہ ایک عام سا ملازم تھا، روزانہ صبح دفتر جاتا اور شام کو گھر واپس آتا۔ اس کی زندگی میں کبھی کوئی عجیب واقعہ نہیں ہوا تھا، نہ دشمنی، نہ کوئی جھگڑا۔ لیکن 2021 کی ایک سرد رات نے سب کچھ بدل دیا۔ اُس رات حمزہ اپنے موٹر سائیکل پر گھر واپس آ رہا تھا۔ وقت تھا 10:47 PM۔ راستہ بالکل سنسان تھا—نہ کوئی گاڑی، نہ کوئی دکان، نہ کوئی آدمی۔ اس کے موبائل کی آخری لوکیشن بھی اسی سنسان سڑک کے درمیان کی ملی۔
اگلی صبح موٹر سائیکل سڑک کے کنارے سے ملی، ایسے جیسے کسی نے آرام سے اسٹینڈ پر لگا کر چھوڑا ہو۔ لیکن حمزہ خود کہیں نہیں تھا۔ پولیس آئی، سرچ ٹیمیں نکلیں، پورے علاقے کو چھان مارا گیا، مگر نہ اس کے جوتوں کے نشان ملے، نہ کپڑوں کا کوئی ٹکڑا، نہ جدوجہد کے آثار—کچھ بھی نہیں۔ ریت میں جو ایک ہی بات سب کو حیران کر رہی تھی وہ یہ کہ اس کے قدموں کے نشان موٹر سائیکل تک تو آئے تھے… لیکن اس کے بعد کے کوئی نشان موجود نہیں تھے۔
اس کے موبائل میں ایک خوفناک چیز ملی— ایک 9 سیکنڈ کی ویڈیو، جو خودکار طور پر کیمرا آن ہونے کے بعد بنی تھی۔ ویڈیو مکمل اندھیرے سے بھری ہوئی تھی، مگر 6ویں سیکنڈ میں دور سے ایک بھاری، مانوس مگر اجنبی آواز آئی:
“Tum yahan akelay kyun ho…?”

اگلے ہی لمحے ایک زوردار، غیر انسانی سی ہوا چلنے کی آواز آتی ہے، جیسے کسی بڑے پروں والی چیز نے تیزی سے حرکت کی ہو۔ اس کے بعد ویڈیو اچانک ختم ہو جاتی ہے۔
لوگوں کے مطابق اس سڑک پر رات کے وقت ایک سیاہ سایہ چلتا دیکھا جاتا ہے—جو انسان کی طرح دکھائی دیتا ہے لیکن زمین پر کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔ کچھ کہتے ہیں حمزہ نے شاید کوئی ایسی چیز دیکھ لی تھی جو انسانوں کو نہیں دکھنی چاہیے تھی۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس رات سڑک پر ایک چمکتی روشنی تھی، جو چند لمحے آسمان کے قریب معلق رہی اور پھر غائب ہو گئی۔
حمزہ کی تلاش آج تک کامیاب نہ ہو سکی۔
نہ جسم ملا، نہ ثبوت، نہ قاتل، نہ کوئی نشان۔
پولیس کی ساری تحقیق، 8 ماہ کی تفتیش، اور درجنوں سوالات… سب بے نتیجہ رہے۔
آخرکار، 2022 میں یہ کیس بغیر کسی حل کے بند کر دیا گیا۔
