3 جولائی کی رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے رضوان کی زندگی کا رُخ بدل دیا

⚡ 3 جولائی کی رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے رضوان کی زندگی کا رُخ بدل دیا… ⚡

رضوان کی شادی کو صرف تین سال ہوئے تھے، لیکن اُس کی زندگی خوشیوں سے بھرپور تھی۔ اُس کی بیوی عائشہ نہایت پیاری، خوش مزاج اور زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ ہر لمحہ اُس کے ساتھ ایک خواب کی طرح لگتا تھا۔

لیکن ایک دن، ایک حادثے نے سب کچھ بدل دیا۔ عائشہ اچانک اس دنیا سے چلی گئی، اور رضوان کی پوری دنیا تاریک ہو گئی۔ وہ ہر رات قبر پر جا کر دیر تک بیٹھتا، اُس کی کمی محسوس کرتا اور کبھی کبھار آنسوؤں کے ساتھ اُس سے باتیں کرتا۔

عائشہ کے انتقال کو چالیس دن گزر چکے تھے، اور زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی تھی۔ لیکن 3 جولائی کی رات سب کچھ بدل گیا۔


رات — 2:13 بجے

کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ موبائل سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا تھا، اچانک فون بجنے لگا۔

اسکرین پر ایک نام چمک رہا تھا:
“Ayesha Calling…”

رضوان کے ہاتھ کانپ گئے۔ یہ وہی نمبر تھا جو عائشہ کے مرنے کے بعد بند ہو چکا تھا۔ فون مسلسل بج رہا تھا۔

آخرکار، اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے کال رسیو کی۔

پہلے چند سیکنڈ خاموشی، پھر بہت دور سے آتی ہوئی، ٹوٹی پھوٹی آواز:
“رضوان… مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے…”

رضوان کی روح کانپ گئی۔ اُس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“عائشہ…؟ کیا یہ تم ہو؟”

آواز پھر آئی، اس بار بہت قریب سے، جیسے فون کے اندر کوئی سانس لے رہا ہو:
“تم آج قبر پر کیوں نہیں آئے…؟ میں تمہارا انتظار کرتی رہی…”

اتنے میں کمرے کا درجہ حرارت اچانک کم ہونے لگا۔ پردے خود بخود ہلنے لگے۔

اور پھر وہ جملہ جس نے رضوان کے پاؤں سے زمین کھینچ لی:
“میں تمہارے پیچھے کھڑی ہوں… مُڑ کر مت دیکھنا۔”

کال اچانک کٹ گئی۔

رضوان نے دھڑکتے دل کے ساتھ آہستہ سے پیچھے دیکھا—
کمرہ بالکل خالی تھا۔


اگلی رات — 2:13 بجے

رضوان پوری رات نہیں سو سکا۔ اگلی رات بھی، ٹھیک 2:13 بجے، فون دوبارہ بجنے لگا۔

اُس نے ڈرتے ڈرتے کال اٹھائی۔

اس بار صرف ایک تھکی ہوئی، دبی ہوئی آواز آئی:
“مجھے قبر میں اکیلا مت چھوڑا کرو…”

رضوان اس آواز کا بوجھ برداشت نہ کر سکا اور سیدھا قبرستان چلا گیا۔

عائشہ کی قبر کی مٹی برف کی طرح ٹھنڈی تھی—غیر معمولی طور پر۔


تیسری رات — سب سے خوفناک کال

تیسری رات بھی وہی وقت۔ فون پھر بجا۔

رضوان نے جیسے تیسے کال اٹھائی۔

اس بار آواز نہایت قریب تھی…
“رضوان… میں گھر آ گئی ہوں…”

اسی لمحے کمرے کے دروازے کا ہینڈل خود بخود ہلنے لگا۔ آہستہ آہستہ…

فون کے اسپیکر سے دروازے کے چرچرانے کی اصل آواز آئی:
“میں اندر آ رہی ہوں…”

رضوان بغیر پیچھے دیکھے گھر سے بھاگ نکلا۔


چوتھی رات — حقیقت سامنے آئی

چوتھی رات فون سائلنٹ پر تھا۔ 2:13 بجے صرف اُس کی فلیش لائٹ چل رہی تھی۔

رضوان نے ہمت کر کے کال رسیو کی۔

اس بار جو آواز آئی وہ عائشہ کی نہیں تھی۔
یہ آواز 3–4 مختلف آوازوں کا مجموعہ تھی، جیسے ایک ساتھ کئی لوگ بول رہے ہوں:

“میں عائشہ نہیں ہوں…”

“وہ آرام سے سو رہی ہے…”

“تم اسے ہر رات پکارتے تھے…”

“تمہاری آواز کسی اور نے سن لی…”

“…اور میں آ گئی ہوں…”

پھر اچانک زور سے چیخیں، ہنسی اور شور۔ کال کٹ گئی۔

رضوان سیدھا ایک بزرگ مولوی کے پاس گیا۔

مولوی صاحب نے فون دیکھا اور کہا:
“بیٹا… یہ نمبر تو عائشہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ہی بند ہو چکا تھا۔ جو تمہیں کال کر رہا تھا… وہ کوئی انسان نہیں تھا۔”

اس رات کوئی کال نہیں آئی۔ رضوان نے سوچا شاید سب ختم ہو گیا۔


اگلی صبح — خوف دوبارہ

لیکن اگلی صبح جب اُس نے فون کھولا… تو ’Recents‘ میں ایک نیا مسڈ کال موجود تھا:
“Ayesha — 2:13 AM”

رضوان کے لیے یہ لمحہ کبھی بھلایا نہ جا سکا۔

Watching this story video Click here

https://youtu.be/pUIcP4r4H8I?si=hGPFQOH8LwP9t5F6

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *