میانوالی کا ان حل شدہ قتل: بچہ، روٹی اور پراسرارگولیاں
عنوان: میانوالی کا ان حل شدہ قتل: بچہ، روٹی اور پراسرار گولیاں
میانوالی کے ایک پرسکون محلے میں شام کے وقت ایک معمولی سا واقعہ پورے محلے کے لیے بھاری المیہ بن گیا۔ ایک چھوٹا بچہ، جس کی عمر تقریباً 10 سال تھی، گھر سے نکلتا ہے تاکہ نزدیکی تندور والی دکان سے روٹی خریدے۔ اُس کے ہاتھ میں کچھ سکّے تھے اور دل خوش تھا۔
بچہ دکان سے روٹی خرید کر واپس گھر کی طرف کچے راستے سے جا رہا تھا۔ یہ راستہ اکثر وہ استعمال کرتا تھا تاکہ جلدی گھر پہنچ سکے۔ لیکن شام کے پرسکون ماحول میں اچانک ایک خوفناک اور پراسرار واردات پیش آ گئی۔
کچے راستے پر بچے کو اچانک گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ زمین پر گر گیا، اور اُس کی ہاتھ میں رکھی ہوئی روٹی اسی جگہ گر گئی۔ بچہ زخمی حالت میں ہلتا رہا، چیختا رہا، لیکن کوئی پاس موجود نہ تھا جو فوراً مدد کر سکے۔ وہ تقریباً ایک گھنٹہ اسی طرح زمین پر پڑا رہا۔
بعد میں اُس کا والد بائیک پر وہاں پہنچا۔ والد نے اپنے بیٹے کو زخمی حالت میں پایا، چیخ چیخ کر روتا رہا اور بچے کو اٹھانے کی کوشش کرتا رہا۔ محلے کے لوگ جمع ہونا شروع ہوئے اور فوراً ریسکیو ٹیم کو اطلاع دی گئی۔ ریسکیو ٹیم نے بچے کو ہسپتال منتقل کیا، لیکن بچہ زخموں کی تاب نہ لا سکا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔
پولیس نے موقع پر تحقیقات شروع کی، لیکن اس پراسرار قتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ نہ قاتل کا پتہ چل سکا، نہ ہی کوئی ایسا clue ملا جو اس واردات کو حل کر سکے۔ کیس آج تک pending ہے، اور میانوالی میں یہ واقعہ ایک ان حل شدہ راز بن کر رہ گیا ہے۔
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی زندگی کے سب سے عام لمحے بھی ایک لمحے میں دردناک المیہ میں بدل سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا بچہ بس روٹی خریدنے گیا تھا، لیکن واپس آتے ہوئے اُس کی زندگی کے ساتھ سب کچھ چھین لیا گیا
Watch Now.
