سایہ دار مکان

لاہور کے قدیم محلے کی گلیوں میں ایک مکان کھڑا تھا، جس کی کہانی ہر کسی کے لیے خوف اور تجسس کا باعث تھی۔ یہ مکان نہ صرف خستہ حال تھا بلکہ اس کی دیواروں پر عجیب و غریب نشانات اور دروازوں پر بے وجہ کُھلنے بند ہونے کی شکایات عام تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ یہاں دن کے وقت بھی آوازیں آتی ہیں، اور رات کے وقت جانا انتہائی خطرناک ہے۔

نوجوان صحافی علی نے کئی دنوں سے اس مکان کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے لیے یہ صرف ایک خبر نہیں، بلکہ اس کے کیریئر کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔

ایک شام علی نے فیصلہ کیا کہ وہ مکان کی چھان بین کرے گا۔ جیسے ہی اس نے مکان کے دروازے پر قدم رکھا، ایک ٹھنڈی ہوا نے اس کے چہرے پر دستک دی۔ اندر کا منظر بھیانک تھا: پھٹے پردے، گرد آلود فرش، اور دیواروں پر خون کے دھبوں کے مشابہ عجیب نشانات۔ علی نے اپنے قلم اور نوٹ بک نکالی، ہر قدم کا ریکارڈ لینے لگا۔

اوپر کی منزل کی طرف جاتے ہوئے، علی نے محسوس کیا کہ سیڑھیاں کچھ عجیب ہل رہی ہیں، اور ہر قدم پر ایک خاموش سرگوشی کانوں میں پڑ رہی تھی:
“مت آؤ… یہاں سب ختم ہو چکا ہے…”

لیکن علی کا تجسس اسے روکتا نہیں تھا۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا گیا، اور ایک کمرے کے دروازے پر پہنچا۔ دروازہ دھیرے دھیرے خود بخود کھلا، اور اندر ایک سیاہ کپڑے میں لپٹا ہوا جسم پڑا تھا۔ علی کی سانسیں رک گئیں۔

اسی لمحے، کمرے کی کھڑکی خود بخود بند ہوگئی، اور اندر کا ماحول ایسا تھا جیسے وقت رک گیا ہو۔ علی نے دل جمع کر کے قریب جا کر دیکھا، تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ یہ مکان محض پرانا نہیں، بلکہ کسی کی چھپی ہوئی حقیقت اور خطرناک راز کا خزانہ تھا۔

علی نے فوراً اپنے موبائل سے روشنی نکالی، اور کمرے کے کونے میں ایک پرانی ڈائری دیکھی۔ ڈائری کے صفحات پر خون کے داغ تھے، اور ہر صفحہ پر کسی کا خوفناک قصہ لکھا ہوا تھا۔ وہ قصہ کسی نوجوان لڑکی، نینا کا تھا، جو سالوں پہلے اسی مکان میں غائب ہوگئی تھی۔

ڈائری میں لکھا تھا:
“اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو شاید تم بھی اسی راستے پر ہو جس پر میں گئی تھی۔ یہ مکان کسی کا نہیں، بلکہ سایوں کا ہے…”

علی نے محسوس کیا کہ کمرے کے کونے میں ایک مدھم روشنی حرکت کر رہی ہے۔ جیسے ہی اس نے قریب جانے کی کوشش کی، روشنی اچانک ایک شفاف سایہ میں تبدیل ہو گئی، اور علی کے پیچھے نمودار ہوا۔ سایہ کچھ بول رہا تھا، مگر الفاظ صاف نہیں سنائی دے رہے تھے۔

علی نے جرات کرکے پوچھا:
“تم کون ہو؟ اور یہ مکان کیوں خطرناک ہے؟”

سایہ نے دھیرے دھیرے جواب دیا:
“جو کچھ تم نے دیکھا ہے، وہ صرف شروعات ہے۔ حقیقت جاننے کے لیے تمہیں ہر راز کی تہہ تک جانا ہوگا، اور ہر راز کے ساتھ خطرہ بھی بڑھتا جائے گا۔”

اسی لمحے علی نے محسوس کیا کہ مکان کے اندر کی ہر چیز جیتی جاگتی ہے: دیواریں سرگوشیاں کر رہی ہیں، فرش قدموں کے بغیر حرکت کر رہا ہے، اور ہر کمرے میں ماضی کی تصویریں زندہ ہو کر سامنے آ رہی ہیں۔

علی نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈائری میں دی گئی تمام ہدایات کے مطابق راز کھولے گا۔ ڈائری میں نقشہ تھا جو مکان کے اندر چھپے خفیہ کمرے اور تالوں کی نشاندہی کرتا تھا۔

رات بھر علی مکان کے مختلف حصوں میں گیا، ہر کمرہ ایک نئی حقیقت اور خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔ پرانے کمرے میں ایک بوسیدہ صندوق ملا، جس میں قدیم اشیاء، خطوط اور ایک خفیہ کلید تھی۔ خطوط میں کسی طاقتور خاندان کے راز اور قتل کے واقعات کا ذکر تھا، جو آج بھی مکان کے سایوں میں بند تھے۔

آخری لمحے میں، علی ایک آخری کمرے تک پہنچا، جو سب سے خطرناک اور چھپے راز کا مرکز تھا۔ کمرے کے بیچ میں ایک قدیم آئینہ تھا، جس میں اس نے اپنی عکاسی نہیں دیکھی، بلکہ نینا کا خوفزدہ چہرہ نمودار ہوا۔ نینا کی آنکھیں سیدھی علی کی طرف تھیں، اور اس نے ایک آخری سرگوشی کی:
“اب تم بھی ہمارے ساتھ ہو… یا حقیقت سے بچنے کا راستہ تلاش کرو۔”

آئیے تصور کریں: علی اس وقت کیا کرے گا؟ کیا وہ مکان کی حقیقت سے باہر نکل پائے گا یا سایہ اس کی تقدیر بن جائے گا؟

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *